پٹنہ،16 ؍فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بہار کے مظفر پور شیلٹر ہوم اسکینڈل میں وزیر اعلی نتیش کمار بھی جانچ کے گھیرے میں آ گئے ہیں۔معاملے کو دیکھ رہی خصوصی پاکسو کورٹ نے سی بی آئی کو مظفر پور شیلٹر ہوم معاملے میں نتیش کمار کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
سی ایم نتیش کمار کے خلاف تحقیقات کے حکم کی وجہ سے معاملے میں نیا موڑ آ گیا ہے۔اس کیس کے گرفتار ملزم ڈاکٹر اشونی نے اپنے وکیل کے ذریعے شیلٹر ہوم کے آپریشن میں وزیر اعلی نتیش کمار کے کردار کی تحقیقات کے لئے عرضی داخل کی تھی۔بتا دیں کہ اشونی کو گزشتہ سال نومبر مہینے میں گرفتار کیا گیا تھا۔اشونی پر نابالغ لڑکیوں کو منشیات کا انجکشن دینے کا الزام ہے۔
اشونی نے اپنی عرضی میں الزام لگایا کہ سی بی آئی حقائق کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی جس میں مظفر پور کے سابق ڈی ایم دھرمیندر سنگھ، سینئر آئی اے ایس افسر اتل کمار سنگھ اور وزیر اعلی نتیش کمار کے کردار پر جانچ ہونی تھی۔پاکسوجج منوج کمار نے سی بی آئی کو ان تینوں کے خلاف تحقیقات کا خلاف کا حکم دیا۔7 فروری کو معاملہ مظفر پور کورٹ سے دہلی خصوصی پاکسو کورٹ میں ٹرانسفر ہوا تھا اور اگلے ہفتے کیس کی سماعت شروع ہونے کا امکان ہے۔ممبئی میں واقع ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کی طرف سے کئے گئے سماجی اڈیٹنگ رپورٹ میں مظفر پور واقع مذکورہ باشیلٹر ہوم میں بچیوں کے جنسی استحصال کا معاملہ جون 2018 میں سامنے آیا تھا۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد سیاسی دباؤ مسلسل بڑھنے لگا، جس کے بعد 26 جولائی، 2018 کو ریاستی حکومت نے معاملے کی جانچ سی بی آئی کو سونپ دی۔
برجیش اپنے شوہر چندرشیکھر ورما کی قربت کو لے کر بہار کی سابق سماجی بہبود وزیر منجو ورما کو اگست 2018 میں استعفی دینا پڑا تھا۔آرمس ایکٹ کے ایک معاملے میں چندر شیکھر اور منجو نے 29 اکتوبر اور 20 نوبر، 2018 کو عدالت میں خود سپردگی کردی تھی۔ اسی وقت سے دونوں عدالتی حراست میں جیل میں بند ہیں۔گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے شیلٹر ہوم کیس مظفر پور کورٹ سے دہلی کورٹ ٹرانسفر کرنے کا حکم دیا تھا۔عدالت نے اس معاملے کی سماعت چھ ماہ کے اندر مکمل کرنے کو بھی کہا تھا۔ناراض سپریم کورٹ نے سخت تبصرہ کے ساتھ ہی کیس کو بہار سے دہلی منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔جسٹس گوگوئی نے کہا تھا کہ اب اس کیس کی سماعت دہلی کے ساکیت کورٹ واقع اسپیشل پاکسو کورٹ میں ہو گی۔انہوں نے معاملے کی سماعت روزانہ کرنے کو کہا تھا۔اس کے علاوہ کیس کی سماعت چھ ماہ میں مکمل کر لینے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔بتا دیں کہ گزشتہ سال مظفر پور شیلٹر ہوم کا معاملہ سامنے آنے پر پورے ملک کی توجہ اس جانب گئی تھی۔